کیلے کا چھلکا نمک میں ملائیں یہ دیکھنے کے بعد

کیلے کا چھلکا نمک میں ملائیں یہ دیکھنے کے بعد
اجزاء کیلے کا چھلکا : آدھا چمچ نمک گیلسرین آئل طریقہ : کہی بھی جانے سے پہلے فوری وائیٹنگ کے لئے یہ والا پیسٹ استعمال کریں ۔آپ پہلے آدھا چمچ نمک میں 5 قطرے گیلسرین ملائے اور پھر اس میں تقریباً 10 قطرے آئل کے ڈالیں جس سے یہ نمک ایک پیسٹ کی شکل میں آجائے .انسانی صحت کے لیے سبزیوں کی افادیت بہت زیادہ ہے لیکن عموماً ان کا چھلکااستعمال نہیں کیا جاتااس پیسٹ کو اچھی طرح تیار کرنا ہے . اب جب پیسٹ تیار ہ جائے تو اس کو کیلے کے چھلکے کے اندر والے حصہ پر لگائیں چہرے پر مساج کرتے وقت زیادہ دباؤ نہ ڈالے اور اگر ہاتھوں پر مساج کرنا ہے تو دبا کر اس کا مساج کرے۔ایک کیلے میں 422 ملی گرام پوٹاشیم ہوتی ہے جو کہ دن بھر کے لیے جسم کو درکار مقدار کا 12 فیصد ہے۔ جسم کو اپنے افعال کے لیے پوٹاشیم کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے، یہ منرل مسلز، اعصابی نظام، کھانے میں موجود غذائیت کو خلیات تک پہنچانے، دل کی دھڑکن کو ریگولیٹ کرنے اور جسم میں نمکیات کی سطح کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ تو جسم میں پوٹاشیم کی کمی ہائی بلڈپریشر اور گردوں میں پتھری کا خطرہ بڑھا سکتی ہے، جسمانی طور پر کمزوری اور تھکاوٹ کا مسئلہ بھی درپیش ہوسکتا ہے۔
ایک درمیانے کیلے میں 3 گرام فائبر موجود ہے جو کہ روزانہ درکار مقدار کا دس فیصد ہے۔ کیلوں میں پری بائیوٹک بھی موجود ہے جو فائبر کی ہی ایک قسم ہے جس سے معدے میں فائدہ مند بیکٹریا کی مقدار بڑھانے میں مدد ملتی ہے، یہ بیکٹریا نظام ہاضمہ بہتر، موسمی نزلہ زکام کا دورانیہ کم اور جسمانی وزن میں کمی میں بھی مدد دیتے ہیں۔پوٹاشیم دل کے لیے بہت اہم منرل ہے، مختلف تحقیقی رپورٹس کے مطابق پوٹاشیم والی غذاﺅں کا استعمال بلڈ پریشر کی سطح کم کرتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے، پوٹاشیم دل پر تناﺅ بڑھانے والے سوڈیم کو پیشاب کے راستے خارج کرتا ہے جس سے دل کو نقصان پہنچنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
ویسے تو اکثر افراد کو وٹامن بی 6 کی اہمیت کا علم نہیں ہوتا مگر یہ میٹابولزم کے انزائمے کو متحرک کرتا ہے، اس کے علاوہ بھی یہ وٹامن انسولین، ہیموگلوبن اور امینو ایسڈز بنانے میں بھی مدد دیتا ہے جو کہ صحت مند خلیات کے لیے ضروری ہے۔متوازن غذا کے ساتھ ایک کیلا کھالینا بے وقت لگنے والی بھوک کی روک تھام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے، کیلے میں موجود فائبر کھانے کی اشتہا کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، تو جسمانی وزن بڑحنے سے پریشان ہیں تو ناشتے یا کھانے کے بعد ایک کیلا کھالیں۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ بہت زیادہ پھل اور سبزیاں کھاتے ہیں، ان میں گردوں کے کینسر کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے، تحقیق کے دوران اس مقصد کے لیے فائدہ مند پھلوں کا جائزہ لیا گیا تو کیلے سب سے بہتر ثابت ہوئے جس کی وجہ اس میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹ فینولیکس کی موجودگی ہے۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پوٹاشیم کا استعمال گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے اور جیسا اوپر بتایا جاچکا ہے کہ کیلے پوٹاشیم سے بھرپور پھل ہے۔
خون کی کمی سے جلد کی زردی، تھکاوٹ اور سانس گھٹنے جیسی شکایات ہوتی ہیں، عام طور پر یہ خون کے سرخ خلیات کی کمی اور ہیموگلوبن کی سطح میں کمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ کیلوں میں آئرن کی کافی مقدار ہوتی ہے جو کہ خون کے سرخ خلیات کی پیداوار کو حرکت میں لانے والا جز ہے، اسی طرح وٹامن بی سکس بلڈ گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرتا ہے جبکہ یہ خون کی کمی کے شکار افراد کے لیے بھی فائدہ مند پھل ہے۔کیلے مزاج کو بہتر بناتے ہیں، اس پھل میں موجود جز tryptophan جسم میں سیروٹونین نامی ہارمون کے لیے فائدہ مند ہے، جسے خوشی کا ہارمون بھی کہا جاتا ہے۔ ہر کیلے میں میگنیشم بھی ہوتا ہے جو کہ خوشگوار مزاج اور صحت بخش نیند کے لیے ضروری ہے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.