لاکھوں پاکستانی باعزت روزگار

دُبئی میں 2پاکستانی ڈرائیور زڈیڑھ کروڑ روپے کے ساتھ ساتھ ٹرک بھی چُرا کر لے گئے

جبل علی کے علاقے میں پاکستانی ڈرائیورز نے اتنی ہوشیاری سے واردات انجام دی کہ سب دنگ رہ گئے
دُبئی(18 دسمبر2020ء) دُبئی میں لاکھوں پاکستانی باعزت روزگار کما کر اپنے ملک کی نیک نامی میں اضافہ کر رہے ہیں تاہم چند سو مجرمانہ ذہنیت کے حامل پاکستانیوں کی وجہ سے پوری پاکستانی کمیونٹی کو شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ ایسا ہی ایک اور افسوس ناک واقعہ دُبئی کے علاقے جبلِ علی میں پیش آیا جہاں دو پاکستانی ڈرائیورز نے اپنی ہی کمپنی کے دفتر میں نہ صرف ساڑھے تین لاکھ درہم کی چوری کی واردات انجام دی بلکہ جاتے وقت کمپنی کا ریفریجریشن ٹرک بھی لے کر فرار ہو گئے۔یہ واردات اتنی ہوشیاری سے انجام دی گئی کہ کسی کو جلد خبر نہ ہو سکی۔ بعد میں جب کمپنی کے ملازمین کو ٹرک اوررقم سے بھرے سیف کا پتا چلا تو مالک کا آگاہ کیا گیا۔ یہ واقعہ جون کے مہینے میں پیش آیا۔جس کی رپورٹ مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کرائی گئی۔ پولیس نے سرویلنس کیمروں کی مدد سے ملزمان کا سراغ لگا کر انہیں گرفتار کر لیا۔ تاہم ملزمان چوری کی گئی رقم کا بڑا حصہ پاکستان اپنے گھر والوں کو بھجوا چکے تھے۔مقدمے کی سماعت کے دوران استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے جن دنوں یہ واردات انجام دی ، جب کمپنی کے دفتر کے احاطے میں کوئی سیکیورٹی گارڈ موجود نہ تھا۔ انہوں نے دفتر کی کھڑی کے ذریعے داخل ہو کر 3 لاکھ باون ہزار درہم سے بھرا سیف چُرایا اور پھر باہر پارک کیے گئے کمپنی کے ریفریجریشن ٹرک میں بیٹھ کر فرار ہو گئے۔ یہ ٹرک کمپنی کے کسی اور ڈرائیور نے وہاں پارک کر رکھا تھا اور ریفریجریشن سسٹم آن رکھنے کی خاطر چابی بھی اگنیشن میں لگا کر انجن آن حالت میں رکھا تھا۔ملزمان نے چند منٹس کے اندر ہی سیف کو ٹرک میں لادا اور وہاں سے فرار ہو کر ٹرک کو لہباب کے صحرائی علاقے میں لے گئے۔ جہاں جا کر انہوں نے سیف کو کھول کر تمام رقم نکالی اور ٹرک کو بھی وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ پولیس نے سرویلنس کیمروں کی مدد سے ملزمان کو شناخت کر لیا جو سیف کوکندھوں پر اُٹھا کر ٹرک میں لوڈ کر رہے تھے اور پھر ٹرک چلا کر وہاں سے بھاگتے ہوئے بھی دکھائی دیئے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.