قانون ملازمت میں کفیل نظام ختم

کیا نئے قانون ملازمت میں کفیل نظام ختم کر دیا جائے گا؟
صرف انہی کے اقاموں کی تجدید ہو گی جن کے پاس مصدقہ ورک ایگریمنٹ ہوں گے
جدہ(۔19 دسمبر2020ء) سعودی عرب میں روزگار کی غرض سے 25 لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ پاکستانیوں کی ایک بڑی گنتی کی شکایت رہتی ہے کہ انہیں معاہدے کے مطابق کم تنخواہ دی جا رہی ہے، یا کفیل انہیں کئی ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کر رہا اور تنخواہ مانگنے پر اُلٹا ان کے خلاف کیس درج کروا دیا جاتاہے یا انہیں مفرور ظاہر کر کے ان کے خلاف ’ہروب‘ لگوا دیا جاتا ہے۔تاہم سعودی حکومت کی جانب سے تارکین وطن کے لیے ملازمت کا نیا قانون مرتب کیا جارہا ہے جس کا آغاز 15 مارچ 2021 سے کیا جائے گا۔جس میں بہت سی تبدیلیاں متوقع ہیں، ان تبدیلیوں سے تارکین ملازم کے حالات میں بھی بہتری کا امکان ہے اور مقامی لیبر مارکیٹ بھی ترقی کی جانب گامزن ہو سکتے ہیں۔اُردو نیوز کے مطابق نئے قانون سے متعلق ابھی تک قوانین کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔اس بارے میں مختلف وزارتیں معاملات کے تمام پہلوں پر غور کررہی ہیں تاکہ جامع نکات مرتب کرکے انہیں لاگو کیا جائے۔ اکثر لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کیا نئے قانون محنت کے نافذ ہونے کے بعد کفیل نظام ختم ہو جائے گا۔ اس حوالے سے وزارت افرادی قوت کی جانب سے وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں قانونی طور پر لفظ کفالت نہیں ہے۔ اب بات آتی ہے۔نئے قانون کی اس بارے میں متعلقہ ادارے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے بنیادی اہمیت ’ورک ایگریمنٹ‘ کی ہوگی۔ جس کی بنیاد پر غیر ملکی کارکن مملکت میں رہ سکیں گے۔سعودی عرب میں ’لیبرمارکیٹ‘ کو منظم کرنے کے لیے ماہر اور پیشہ ور کارکنوں کو ہی اہمیت دی جائے گی جس کے لیے ملازمت تلاش کرنے والے کارکنوں کی تعلیمی قابلیت اور ان کا سابقہ تجربہ انتہائی اہم ہوگا۔یاد رہے کہ نئے قانون میں معاہدہ ملازمت انتہائی اہم ہوگا جس کی بنیاد پر ہی اقامے کی تجدید اور دیگر معاملات کی انجام دہی ممکن ہوگی۔ورک ایگریمنٹ کی بنیاد پر اقامہ کی تجدید کی جائے گی جس کارکن کے پاس مصدقہ ورک ایگریمنٹ ہوگا اس کا اقامہ ہی تجدید ہوگا اور اسے ملازمت کے بہترین مواقع میسر آئیں گے۔

Sharing is caring!

Comments are closed.