صرف دو ہی آپشنز دستیاب

کویت آنےوالوں کےلیےصرف دو ہی آپشنز دستیاب

کویت آنے لیے غیر ممنوعہ ممالک میں گئے ہوئے مسافروں کے پاس صرف دو آپشن موجود ہیں تفصیلات کے مطابق ہوائی اڈے کو 10 دن کے لئے بند رکھنے کے فیصلے کے بعد وہ مسافر جو کویت میں داخلے کی تیاری میں ایک عبوری ملک میں 14 دن گزار رہے ہیں ان کو یا تو جنوری 2021 کے اوائل میں ہوائی اڈہ کھلنے تک اسی ملک میں رہنا پڑے گا یا اپنے ممالک واپس لوٹنا ہوگا۔ روزنامہ الرای نے بتایا ہے کہ ممنوعہ ممالک کی فہرست سے آنے والے ان تارکین وطن جو غیر ممنوعہ تیسرے ملک سے واپس لوٹنا چاہتے ہیں ان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ انہیں غیر ممنوعہ ملک میں رکنا ہے، واپس اپنے ملک لوٹنا ہے یا کویت کی طرف سے آنے والے اگلے فیصلے تک کا انتظار کرنا ہے۔ مقامی طور پر اور کالعدم ممالک میں سیاحت اور ٹریول مارکیٹ کے باخبر ذرائع کے مطابق تارکین وطن مسلسل فلائٹ بکنگ اور موجودہ وقت میں سفر کی سہولت کے بارے میں بار بار پوچھ گچھ کررہے ہیں۔ کویت جانے والوں کے اسٹیٹس کے بارے میں بھی بہت سارے سوالات ہیں جو اس وقت ٹرانزٹ ممالک میں ہیں اور وہ پریشانی اور تذبذب کا شکار ہیں کہ اب کیا ہوگا کیونکہ کویت واپس آنے میں ان کے پاس کچھ ہی دن باقی ہیں ذرائع نے بتایا کہ زیادہ تر ٹریول کمپنیاں اپنے صارفین کے لئے کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں لیکن عام اکثریت یہ ہے کہ شاید ٹرانزٹ ملک کے لئے سفر میسر ہوگا اس معاملے میں ایک خاص آپشن ہوگا خاص طور پر اگر کویت فیصلہ کرتا ہے اور ایک مخصوص تاریخ پر معطلی کا خاتمہ کردے تو اس طرح ان افراد کی ملک واپسی آسان ہوگی تاہم ایک نئے اور اچانک فیصلے کا امکان ہے جو ان منصوبوں کو ایک بار پھر بدل سکتا ہے۔ جہاں تک وہ لوگ جو پہلے ہی سفر کر چکے ہیں اور قرنطین کے سبب ٹرانزٹ ملک میں قیام پذیر ہیں انکے لئے وہاں دو مختلف حالات ہیں۔ پہلا ان لوگوں کے لئے ہے جن کے پاس ہوائی اڈے کی معطلی کی مدت کے اختتام تک کافی وقت ہے اور ان پر کسی قسم کا مالی دباؤ نہیں ہے کیونکہ وہ رہائش اور خوراک کے لئے اپنی لاگت کو پوری طرح سے پورا کرسکتے ہیں لیکن اگر فیصلہ میں توسیع کی جاتی ہے تو یہ ان کی سب سے بڑی پریشانی ثابت ہوگی۔ دوسری صورتحال ان لوگوں کے لئے پریشان کن ہے جن کے معطلی کی مدت کے دوران “ٹرانزٹ” ملک میں قیام کی میعاد ختم ہو جائے گی اور وہ ٹرانزٹ ملک میں قیام بڑھانے یا اپنے آبائی ملک واپس جانے کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہوں گے.

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *