برطانوی ریگولیٹری اتھارٹی کا بھارتی چینل

پاکستان کے خلاف نفر-ت انگیزمو-اد پربرطانوی ریگولیٹری اتھارٹی کا بھارتی چینل کو جر-مانہ

ری پبلک ٹی وی نے پاکستان ‘مذاہب اور کشمیر کے حوالے سے پروگرام میں تعصب اور نفر-ت انگیزمو-اد نشرکیا20ہزار پاﺅنڈ جرمانے کے علاوہ اتھارٹی کا چینل پر پابندی کا بھی عندیہ
لندن(ا نٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 دسمبر ۔2020ء) برطانوی ٹیلی کامز ریگولیٹر آفس آف کمیونیکیشنز (آف کام) نے ورلڈ ویو میڈیا نیٹ کے بھارتی چینل”ری پبلک بھارت ٹی وی“پر پاکستانیوں کے خلاف نفر-ت آمیز مو-اد نشر کرنے پر 20 ہزار پاﺅنڈز جر-مانہ عائد کردیا ہے‘ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حالاتِ حاضرہ کے پروگرام” پوچھتا ہے بھارت“ میں میزبان ارنب گوسوامی اور ان کے کچھ مہمانوں نے کئی بیانات دیے جو پاکستانی عوام کے خلاف نفر-ت آمیز، توہین آمیز سلوک کے برابر تھے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پروگرام ممکنہ طور پر نا-گوار اور براڈکاسٹرز کوڈ کے خلاف بھی تھا آف کام نے فیصلے میں کہا ہے کہ چینل کے خلاف ورزیوں کی سنگین نوعیت کی وجہ سے قانونی پابندی عائد کرنے پر غور کر رہے ہیں.فیصلے میں اس پروگرام کی تحریری نقول شامل تھیں جو 6 ستمبر 2019 کو نشر کیا گیا تھا اس شو میں دیگر چیزوں کے ساتھ بھارت کے خلائی پروگرام، مسئلہ کشمیر اور بھارتی اہداف کے خلاف د-ہشت گر-د سرگرمیوں میں پاکستان کی مبینہ مداخلت پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا‘آف کام کا کہنا تھا کہ اس شو میں نشریاتی مو-اد کے ذریعے براڈکاسٹرز کوڈ کے سیکشن 2.3، 3.2 اور 3.3 کی خلاف ورزی کی گئی ہے جس میں نفر-ت آمیز تقریر، افراد، گروہوں، مذاہب یا برادریوں کے ساتھ ناروا سلوک اور توہین آمیز مو-اد شامل ہے.ریگولیٹر نے ورلڈ ویو میڈیا نیٹ ورک سے وضاحت طلب کی ہے جس کے پاس ری پبلک بھارت کو برطانیہ میں نشر کرنے کا لائسنس موجود ہے تاہم ورلڈ ویو میڈیا نیٹ ورک نے دلیل دی کہ یہ شو شواہد پر مبنی ہے اور د-ہشت گر-دی یا نفر-ت کو فروغ نہیں دیتا اور اس نے یقینی طور پر کسی بھی طرح سے نف-رت کو فروغ نہیں دیا یا اس کا جواز پیش نہیں کیا لیکن آف کام کی جانب اس وضاحت کو قابل قبول نہیں سمجھا گیا.جر-مانہ عائد ہونے کے بعد ورلڈویو میڈیا نیٹ ورک نے برطانوی ریگولیٹر کو بتایا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات پر براہ راست بحث و مباحثے کو نشر کرنے سے روک رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گاکہ نشریات سے قبل دیگر اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ موا-د کا جائزہ لیا جائے. اپنے فیصلے میں آف کام نے کہا کہ وہ نشریاتی ادارے کے آزادی اظہار رائے کے حق سے آگاہ ہے اور انہوں نے متنا-زع موضوعات پر پروگرام نشر کرنے سے منع نہیں کیا کیونکہ یہ واضح طور پر عوام کے مفاد میں ہے.

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *