یورپی یونین پرواضح کرناہوگا

ہمیں یورپی یونین پرواضح کرناہوگا کہ ہمارےلیےحضرت محمد صلی الله علیه وسلم کس قدراہمیت رکھتےہیں، وزیراعظم عمران خان
یورپ میں ہو-لوکا-سٹ پربات کرناقابل سزاجر-م ہے، مغرب کومعلوم نہیں کہ مسلمانوں کیلئےان کےآخری نبی صلی الله علیه وسلم کس قدرقابل احترام ہیں، وزیراعظم کا ترک ٹی وی کو انٹرویو

sss

اسلام آباد ( 06 جنوری2021ء) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہمیں یورپی یونین پرواضح کرناہوگا کہ ہمارےلیےحضرت محمد صلی الله علیه وسلمکس قدراہمیت رکھتےہیں۔ ترک ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مغرب میں رہ چکاہوں اس لیےمغربی معاشرےمیں اسلاموفوبیاسےواقف ہوں۔مغرب کومعلوم نہیں کہ مسلمانوں کیلئےان کےآخری نبیصلی الله علیه وسلم کس قدرقابل احترام ہیں۔

ss

یورپ میں مذہب کواس قدراہمیت حاصل نہیں جیسےہمارےمعاشرےمیں ہے ۔ اسلامی رہنماوَں کومغربی ملکوں کےلوگوں کواسلام کےبارےمیں بتاناچاہیےتھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یورپ میں ہول-وکا-سٹ پربات کرناقابل سزاجرم ہے ۔ ہمیں یورپی یونین پرواضح کرناہوگاکہ ہمارےلیےحضرت محمدصلی الله علیه وسلم کس قدراہمیت رکھتےہیں ۔ ترک ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں وزراعظم نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈمیں ایک شخص نےمسجدمیں مسلمانوں کوشہیدکیا،نیوزی لینڈواقعہ پرکسی نےنہیں کہاکہ یہ کرسچن د-ہشتگر-دی ہے۔  مغربی اورمشرقی معاشروں میں مذہب سےمتعلق اس فرق کوسمجھنےکی ضرورت ہے۔ فرانس میں حجاب پرپابندی عائدکردی گئی،مساجدپر چھاپےمار-ےگئے،ایسےاقدامات سےفرانس کےاندررہائش پذیرمسلم برادری کےجذبات متاثرہوتےہیں۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ دنیا کی پہلی فلاحی ریاست مدینہ میں قائم ہوئی تھی۔ ریاست مدینہ میں اقلیتی برادریوں کویکساں حقوق حاصل تھے۔ قائداعظم ایسی ریاست کےخواہاں تھےجواسلامی اصولوں پرمبنی ہو۔ قائداعظم میرٹ کی بالادستی پریقین رکھتےتھے۔ پاکستان میں اقلیتوں کوبرابرکےحقوق حاصل ہیں۔ مچھ واقعے کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ مچھ میں ہزارہ برادری کےکان کنوں کی شہادت افسوسناک ہے۔ بدقسمتی سےپاکستان میں فرقہ ورانہ د-ہشتگر-دی رہی ہے۔ یہ د-ہشتگر-د زیادہ ترداعش کےساتھ منسلک ہوچکےہیں۔ مچھ واقعہ بھی ایسےہی د-ہشتگر-دگروپ کی کارروائی ہے۔ گزشتہ دنوں کرک میں مندرحملےکےبعدذمہ دارعناصرکےخلاف کارروائی کی گئی ہے ۔ بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اقتدارمیں آنےکےبعدبھارت سےتعلقات بہترکرنےکی کوشش کی ہے۔ حالیہ برسوں میں سلامتی کونسل میں کشمیرکامسئلہ تین بارزیربحث رہا، سلامتی کونسل کی قراردادیں کشمیریوں کوحق خودارادیت دیتی ہیں۔ لیکنمودی حکومت نےمقبوضہ کشمیرکےآبادیاتی تناسب کوتبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسرائیل نےفلسطینی علاقوں پرطاقت سےقبضہ کیا، بھارت مقبوضہ وادی پرقابض ہے۔ بھارت میں موجودہ نسل پرستی کےماحول کاذمہ دارمودی ہے۔ نریندرمودی دعویٰ کرتاہےکہ بھارت صرف ہندووَں کاہے ، اس سے بھارت میں کشیدگی پھیلی۔ نریندرمودی نےاپنےدونوں انتخابات پاکستان دشمنی پرلڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیرکوکشمیریوں کی امنگوں کےمطابق حل کرناہوگا۔مقبوضہ کشمیرمیں اب ایساکوئی نہیں جوبھارت کےساتھ رہنےکاحامی ہو۔

Sharing is caring!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *