مسجد نبوی کے میناروں کی تاریخ

مسجد نبوی کے میناروں کی تاریخ و تعمیر کے حوالے سے ایمان پرور معلومات سامنے آ گئیں
نبوی دور سے لے کر اب تک ان میناروں کی کئی بار توسیع و تعمیر ہوئی، موجودہ میناروں کی تعداد 6اور اونچائی 104 میٹر ہے

مدینہ منورہ(25جنوری2021ء) دُنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خانہ کعبہ دُوسرا مقدس ترین مقام ہیں۔ یہاں اُمت کے شافعی ، خاتم النبیین اور رحمت اللعالمین حضرورت محمد صلی الله علیه وسلم کا روضہ مبارک بھی ہے۔ جس کی زیارت کے لیے ہر سال لاکھوں افراد آتے ہیں۔ مسجد نبوی کے میناروں کو صدیوں سے فن تعمیر کے شاہکار کے طور پر جانا جاتا ہے۔ مسجد نبوی کی توسیع کے ساتھ ہردور میں اس کے میناروں کی خوبصورتی ، سجاوٹ اور بناوٹ میں نئے طریقے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔ العربیہ نیوز کے

Masjid

مطابق یہی وجہ ہے کہ مسجد نبوی کے میناروں کو جدید قدیم فن تعمیر کے شاہکار کہا جاتا ہے۔ یہ مینار اپنی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہیں۔ انہیں جس سمت سے بھی دیکھا جائے یہ دیکھنے میں اسلامی فن تعمیر کے منفرد نمونے لگتے ہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے مسجد کے لیے مینار اس وقت متعارف فرمائے جب موذن رسول حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ مسجد کے قریب ایک گھر کی چھت سے اذان دیا کرتے تھے۔مسجد نبوی کی توسیع کے مراحل پر نظر ڈالیں تو ہمیں مسجد کے ساتھ ساتھ میناروں کی تعمیر ومرمت کی تجدید بھی ملتی ہے۔سنہ 1370ھ سے 1375ھ کے دوران مسجد نبوی کی توسیع کے دوران مسجد کے 4 مینار رکھے تھے۔ جب کہ شمال مغربی، شمال مشرقی مینار اور باب رحمت میناروں کو ہٹا دیا گیا۔ ان کی جگہ شمال مشرق کی سمت میں اور دوسرا شمال مغرب کی سمت میں دو نئے مینار بنائے گئے۔

ان میں سے ہرمینار کی اونچائی 70فٹ اور گہرائی 17 فٹ تھی۔ہرمینار چار منزلوں پر مشتمل تھا۔ زیریں منزل مربع شکل میں تعمیر کی گئی جو مسجد کی سطح کے برابر ہے۔اس منزل میں چاروں میناروں میں ایک بال کونی بنائی گئی۔ دوسری منزل تین کونوں کی شکل میں بنائی گئی اور اس میں بھی ایک بالکونی شامل ہے۔ تیسری منزل تین کونوں کی شکل میں مگرمختلف رنگوں میں?تعمیر کی گئی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.