مدینہ منورہ میں سستی اور صاف سُتھری رہائش

مدینہ منورہ میں سستی اور صاف سُتھری رہائش کا مسئلہ بہت جلد حل ہو نے والا ہے
میونسپلٹی نے ساڑھے 3 لاکھ مربع میٹر پر ہزاروں مکانات ، دُکانیں اور دیگر تعمیرات کا اعلان کر دیا

مدینہ منورہ(23جنوری2021ء) سعودی عرب میں تارکین کی تعداد 80 لاکھ سے زائد ہے جن میں پاکستانیوں کی گنتی 25 لاکھ کے قریب ہے۔ اس لحاظ سے سعودی شہریوں کے بعد مملکت میں سب سے بڑی کمیونٹی پاکستانیوں کی ہے۔ تمام مسلمانوں کی طرح پاکستانیوں کے لیے بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مقدس ترین مقامات ہیں۔ ہر پاکستانی کی یہ دلی خواہش ہوتی ہے کہ اس کہ ملازمت

madina

ان مقدس شہروں میں ہو تاکہ وہ حرمین شریفین میں عبادت کی زیادہ سے زیادہ سعادت حاصل کر سکے۔ تاہم ان کی اس خواہش کی راہ میں جو سب سے بڑی رکاوٹ ہے وہ مدینہ میں رہائش گاہ کا مسئلہ ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں دوسرے شہروں میں ہی زیادہ تر قیام کرنا پڑتا ہے۔ اس حوالے سے ایک اچھی خبر سُنا دی گئی ہے۔ سعودی عرب میں مدینہ منورہ میونسپلٹی نے شہر میں رہائش کا مسئلہ حل کرنے کے لیے مزید 25 سیکٹرز کی منظوری دی ہے۔ یہ 3 لاکھ 59 ہزار مربع میٹر سے زیادہ رقبے پر بسائے جائیں گے۔اُردو نیوز کے مطابق نئے سیکٹر میں 5200 مکانات تعمیر ہوں گے، دکانیں اور 144 صنعتی پلاٹس ہوں گے جبکہ 33 پارکس، 27 سکول، چالیس مساجد اور 8 سرکاری دفاتر قائم کیے جائیں گے۔

مدینہ میونسپلٹی نے بیان میں کہا کہ نئے سیکٹرز وزارت بلدیات و دیہی امور کے مقرر کردہ ضوابط اور معیار کے لحاظ سے قائم ہوں گے۔مدینہ میونسپلٹی نے بتایا کہ نئے رہائشی سیکٹرز میں ماحولیاتی و اقتصادی امور کو مدنظر رکھا جائے گا جبکہ بنیادی ڈھانچے کے لیے الگ سے پلاٹس مہیا کیے جائیں گے۔ان ہزاروں رہائشی یونٹس سے تارکین وطن کو بھی بہت فائدہ ہو گا۔ مکانات میں اضافے سے انہیں کم کرایوں پر اچھی اور بہترین رہائش گاہ میسر ہو سکے گی۔

Sharing is caring!

Comments are closed.