”امردوکے پتوں کے الیسے فوائد کہ سائنسدان بھی حیران“

”امردوکے پتوں کے الیسے فوائد کہ سائنسدان بھی حیران“

اگر آپ کے بال گر رہے ہیں تو یہ پھل استعمال کر یں اور حیران کن نتائج حاصل کریںمردو خواتین اپنے گرتے بالوں کی وجہ سے یکساں طور پر پریشان ہوتے ہیں اور ان کی نشوونما بڑھانے اور گرنے سے روکنے کیلئے ادویات کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرتے جس کا سائیڈ ایفکٹ ہوتا ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ امرود کے پتوں کے باقاعدہ استعمال سے آپ کے بال گرنا رک جائیں گے اورساتھ ہی نئے بال بھی اگنے لگیں گے۔

 

ان میں موجود وٹامن بی آپ کے بالوں کیلئے نہایت مفید ہے۔امرود کے کافی زیادہ پتے لیکر انہیں پانی میں 20منٹ تک ابالیں ،پانی کو ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر اس پانی کو سر میں لگا کر چند گھنٹو ں کیلئے چھوڑ دیں ۔نارمل پانی سے دھولیں ،رات کو سونے سے پہلے امرود کے پانی کو سر بھی لگائیں اور اس سے مساج کرنے کے بعد سر پر لگارہنے دیں اور سوجائیں صبح اٹھ کر سر کو نارمل پانی سے دھوئیں ۔چند ہی دن میں آپ دیکھیں گے کہ بال گرنا بند ہو گئے ہیں اور نئے با ل بھی اگنے لگے ہیں۔

 

انسان کاوجود مٹی سے بنایا گیا ہے اور اس وجود کی غذائی ضروریات اور وجود کو لگنے والی بیماریوں کا علاج بھی رب کائنات نے مٹی کے اندر ہی رکھا اور مٹی صدیوں سے جہاں ہماری غذائی ضروریات کو پُورا کر رہی ہے وہاں یہ ہماری بیماریوں کے لیے ہمیں ادویات بھی دے رہی ہے۔

 

امرود اور اُس کے پتوں کے متعلق 1950 سے پہلے میڈیکل سائنس اتنی معلومات نہیں رکھتی تھی اور اسے ایک عام سا پھل مانا جاتا تھا مگر 1950 سے لیکر اب تک ماہرین ہر روز اس پھل اور اس کے پتوں پر اپنی تحقیق سے نئی معلومات حاصل کر رہے ہیں اور خاص طورپرامرود کے پتوں پر کی جانے والی بیشمار تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عام پتے نہیں ہیں بلکے ایک اکسیر کا درجہ رکھتے ہیں۔

 

امرود اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیوں کا خزانہ ہے جس میں وٹامن سی پوٹاشیم اور فائبر کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو اسے غذایت میں دوسرے پھلوں سے ممتاز کرتی ہے اور ہم اس آرٹیکل میں امرود اور اس کے پتوں کے میڈیکل سائنس کے تحقیق شُدہ 8 ایسے فائدے شامل کر رہے ہیں جنہیں پڑھ کر آپ بھی اس پھل کی بے پناہ افادیت کو جانیں گے اور اسے اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں گے۔

 

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!