”گھٹنوں کا دردجتنا بھی پرانا ہو باکل ختم ہوجائیگا“

”گھٹنوں کا دردجتنا بھی پرانا ہو باکل ختم ہوجائیگا“

کیا آپ جوڑوں کے درد میں مبتلا ہیں ؟ اگر ہاں تو آپ تنہا نہیں درحقیقت عمر کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں اکثر افراد اس تکلیف کا شکار ہوجاتے ہیں۔درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جس کے باعث جوڑوں کا درد لوگوں کو اپنا شکار بنالیتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر گھٹنوں پر ہوتا ہے۔گھٹنوں میں تکلیف کسی حالیہ انجری کا نتیجہ ہو یا جوڑوں کے امراض کا نتیج کا خیال رکھ کر آپ اس مسئلے سے نجات یا اس کی شدت میں کمی لانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔بہت زیادہ آرام مت کریںبہت زیادہ آرام یا بیٹھے رہنے سے مسلز کمزور ہوسکتے ہیں، جو جوڑوں کی تکلیف کو بدتر کرسکتا ہے۔ ایسی ورزشیں کرنا عادت بنائیں جو گھٹنوں کے لیے محفوظ ہوں اور ان کو کرنا عادت بنالیں۔ اگر آپ کو یقین نہ ہو کہ کونسی جسمانی سرگرمی محفوظ ہے یا نہیں یا کتنی دیر تک کرنی چاہیے، تو ڈاکٹر سے بات کریں۔

ورزش ضرور کریںکارڈیو ورزشیں جیسے چہل قدمی، سوئمنگ، سائیکل چلانا اور دیگر، مسلز کو مضبوط بنا کر گھٹنوں کو سپورٹ کرتی ہیں اور لچک بڑھاتی ہیں، ویٹ ٹریننگ اور اسکریچنگ بھی فائدہ مند ہیں۔Tai chi بھی اکڑن کو کم اور توازن کو بہتر کرتی ہے۔گرنے سے بچیںتکلیف دہ یا عدم توازن کے شکار گھٹنے گرنے کا امکان بڑھاتے ہیں، جس سے گھٹنوں کو مزید نقصان بچ سکتا ہے۔ گرنے سے بچنے کے لیے گھر کو روشن رکھیں یا کسی چز کا سہارا لیں۔’رائس’ کا استعمال کریںریسٹ، آئس، کمپریشن اور ایلیویشن (رائس) معمولی انجری یا جوڑوں کے امراض کے باعث گھٹنوں کی تکلیف سے بچاﺅ کے لیے بہتر حکمت عملی ہے۔ اپنے گھٹنوں کو کچھ آرام دیں، برف سے سوجن کم کریں، کمپریسیو بینڈیج لگائیں اور اپنے گھٹنوں کو کچھ اونچا رکھیں۔

 

وزن کو نظرانداز مت کریںاگر آپ کا جسمانی وزن زیادہ ہے تو اس میں کمی لانا گھٹنوں پر تناﺅ کم کرسکتا ہے، آپ کو مثالی وزن کے حصول کی ضرورت نہیں ہوتی، معمولی کمی بھی فرق پیدا کرسکتی ہے۔چلنے کے لیے سہارے سے گریز مت کریںایک بیساکھی یا چھڑی گھٹنوں پر سے تناﺅ کمی لانے میں مدد دے سکتے ہیں، گھٹنوں پر چڑھائے جانے والے بریسز بھی اسے مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتے ہی۔آکو پنکچر پر غو رکریںاس روایتی چینی طریقہ کار میں سوئیاں جسم کے مخصوص حصوں میں داخل کی جاتی ہیں اور اسے کئی طرح کے درد میں کمی لانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جو ممکنہ طور پر گھٹنے کے درد میں کمی کے لیے بھی مفید ہوسکتا ہے۔

 

جوتوں کا خیال رکھیںنرم سول والے جوتے گھٹنوں پر تناﺅ میں کمی لاسکتے ہیں، گھٹنوں میں پرانے درد کے لیے ڈاکٹر اکثر خصوصی سول کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں، اس مقصد کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔گرم ٹھنڈا بھی مددگارگھٹنوں میں انجری کے بعد اولین 48 سے 72 گھنٹے کے بعد سوجن اور تکلیف میں کمی کے لیے کولڈ پیک کو استعمال کیا جاسکتا ہے، اس مقصد کے لیے پلاسٹک بیگ میں برف کو ڈال کر اس کے گرد تولیہ لپیٹ دیں، پھر دن میں سے 4 بار 15 سے 20 منٹ تک استعمال کریں۔اس کے بعد گرمائش سے مدد لیں، اس کے لیے ہیٹنگ پیڈ یا گرم تولیہ پندرہ سے 20 منٹ کے لیے تین سے 4 بار دہرائیں۔جوڑ کو مشکل میں مت ڈالیںزیادہ سخت ورزشیں تکلیف دہ گھٹنوں کو مزید نقصان پہنچاسکتی ہیں، ایسی ورزشیں جیسے رننگ، جمپنگ وغیرہ سے گریز کریں جبکہ اٹھک بیٹھک سے بھی بچیں کیونکہ اس سے بھی گھٹنوں پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔

 

 

 

 

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!