”سردی میں دودھ پینے کا بہترین طریقہ“

”سردی میں دودھ پینے کا بہترین طریقہ“

دودھ میں بہت سے اہم غذائی اجزا شامل ہوتے ہیں، اس میں کیلشیم ہوتا ہے جو ہڈیوں کی صحت، دانتوں، بلڈ پریشر اور وٹامن ڈی کو جسم میں برقرار رکھتا ہے۔ اس سے آنتوں میں کیلشیم جذب کرنے  کی طاقت پیدا ہوتی ہے، لیکن کچھ لوگ دودھ کی الرجی کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ دودھ میں موجود پروٹین کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں، اس لیے وہ جانوروں کے دودھ کو پودوں سے نکلنے والا دودھ، جیسے بادام اور سویا وغیرہ کے دودھ کے ساتھ تبدیل کرسکتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ ‘بچہ جب ماں کا دودھ پیتا ہے تو اس میں غیر معمولی ردعمل ہوتا ہے اور کئی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے، لہٰذا زیادہ تر ڈاکٹرز ماؤں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ پہلے 6 ماہ کے دوران بچے کو دودھ پلایا کریں تاکہ الرجی اور انفیکشن کا خطرہ کم ہو۔دودھ کی الرجی والے لوگوں کا مدافعتی نظام اس میں موجود پروٹین کو نقصان دہ چیز کے طور پر شناخت کرتا ہے، جو ہسٹامین جیسے مدافعتی اینٹی باڈیز کی تیاری کا باعث بنتا ہے ، جو زیادہ تر الرجی کی علامات کا سبب بنتا ہے۔

واضح رہے کہ گائے کے دودھ میں دو اہم پروٹینز موجود ہوتے ہیں جو الرجی کا سبب بنتے ہیں، جو لوگ گائے کے دودھ سے الرجی رکھتے ہیں ان کو بھی اکثر سویا دودھ سے الرجی ہوتی ہے۔عام طور پر دودھ کی الرجی والے بچوں کا ردعمل آہستہ ہوتا ہے۔ یہ علامات سے ظاہر ہوتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ پیٹ میں درد، اسہال، خارش، وقفے وقفے سے کھانسی، بہتی ہوئی ناک، یا ہڈیوں میں انفیکشن، قے، سردی لگنے، جلد اور منہ میں سوجن، کم بلڈ پریشر اور سانس لینے میں دشواری کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔دودھ کی الرجی کی تشخیص اور کن عناصر سے بچنا چاہیے؟دودھ کی الرجی کی تشخیص کی ماہر ڈاکٹر میرنا الفتی کے مطابق ‘اس کے لیے ڈاکٹرز متعدد طریقوں کا استعمال کرتے ہیں جیسے جلد سمیت ضروری جسمانی معائنہ کرنا ہے۔خون کا ٹیسٹ خون میں اینٹی باڈیز کی مقدار کی پیمائش کرتا ہے، اگر اب بھی الرجی کا شبہ ہے۔دودھ کی الرجی میں مبتلا افراد کے لیے ایسے کھانوں سے پرہیز کرنا چاہیے جن میں دہی، گاڑھے دودھ، پاؤڈر دودھ، مکھن، کریم اور پنیر شامل ہوں۔خزاں رت کی زردی ہمیں خوب سے خوب تر کی جستجو اور تلاش کی راہ دکھلاتی ہے توبہار کا گل رنگ سماں ہمارے جذبوںکے دھارے میں رنگینی اور چاشنی پیدا کرتا ہے۔

المختصر یہ کہ موسم کوئی بھی ہو وہ اپنی ایک الگ ا علیٰحدہ پہچان رکھتا ہے۔موسموں کا آنا جانا در اصل انسانی فطری بے چینی اور تغیر پسندی کو ظاہر کرتا ہے۔ ہر موسم جب آتا ہے تو اپنے ہی تقاضے لیے انسانوں کو تبدیلی قبول کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ چونکہ آج کل موسمِ سرما کی شدت زوروں پر ہے۔لہٰذا ہم پر لازم ہے کہ موسم کی مناسبت سے اپنے معمولات میں تبدیلی پیدا کریں کیونکہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی انسانی طبعی رجحانات، فطری میلانات اور جسمانی ضروریات میں بھی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔جوں جوں موسم میں ٹھنڈک بڑھتی جاتی ہے انسانی جسم میں حدت و حرارت پیدا کرنے والی غذاؤں کی طلب میں اضافہ ہو تا جاتا ہے۔دسمبر اور جنوری پاکستان میں سردی کے عروج کے مہینے ہیں ۔اس دوران گرم اور مقوی غذاؤں کا استعمال  معمول  سے زیادہ ہو نے لگتا ہے۔

خشک میوہ جات جسم کو حرارت پہنچانے کا قدرتی اور سادہ ذریعہ ہیں۔ عوام الناس کی جسمانی ضروریات سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے بعض کا روباری ذہن رکھنے والے افراد ان قدرتی اشیاء کو بھی مہنگے داموں بیچنے لگتے ہیں۔عجیب و غریب فوائد گنوا کر کلونجی، شہد اور دیگر قدرتی اشیاء کو کیمیائی انداز سے پیش کرکے منہ مانگے دام وصول کرتے ہیں ۔ یاد رہے کہ کوئی بھی فطری غذا اپنی اصلی حالت میں ہی بہترین فوائد کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ فطری غذاؤں کو ان کی اصلی حالت میں ہی استعمال کرکے مکمل فوائد کا حصول ممکن ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جسم کی صحت مندی اور تن درستی کے لئے ماحول اور موسم کی مناسبت سے لباس اور خوراک کا استعمال کیا جائے۔ تن درستی،جوانی اور خوبصورتی کے لئے متوازن اور مناسب غذا از حد ضروری  ہے۔ ہماری کھائے جانے والی غذا ہمارے لئے صحت کا ذریعہ بھی ہوتی ہے اور بیماری کا پیغام بھی بن سکتی ہے۔

غذا کے حوالے سے یہ بات ہر گز اہم نہیں ہوتی کہ ہم کتنا کھا رہے ہیں بلکہ اہم تو یہ ہوتا ہے کہ ہم کیا کھا رہے ہیں؟ ہمارے بدن کی نشو ونما اور طبعی تبدیلیوں کا دارو مدار غذا پر ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنی جسمانی ضروریات ، فطری رجحانات اور طبعی میلانات کو پیش نظر رکھتے ہوئے یومیہ غذاؤں کا انتخاب اور استعمال کریں تو یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہم خاطر خواہ حد تک امراض کے حملوں سے محفوظ ہو جائیں۔بیماریوں کے حملوں سے بچنے کے لئے فطری غذائیں بہترین ہتھیار ہیں۔ فطری غذاؤں میں ہمارے لئے بیماریوں سے حفاظت اور شفاء یابی کی مکمل صلاحیت پائی جاتی ہے۔ موسم کی مناسبت سے متوازن غذاؤں کا استعمال ہمیں ایک بڑی حد تک ضدی اور موذی امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ متوازن اور مناسب غذا ایسے غذائی اجزاء پر مشتمل ہوتی ہے جو ہمارے بدن کی بنیادی اور لازمی ضرورت ہو تے ہیں ۔ ان غذائی اجزاء سے بدنِ انسانی توانائی و حرارت حاصل کرتا ہے جو اسے مضبوطی اور توانائی فراہم کرتے  ہی

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

error: Content is protected !!