”کیا آپ ہر قت تھکے تھکے رہتے ہیں“

”کیا آپ ہر قت تھکے تھکے رہتے ہیں“

آج کے دور میں اکثر لوگ تھکے ہوئے، اداس اور مایوس نظر آتے ہیں۔بہت سے لوگ روزمرہ کے کام کرنے میں ہی تھک جاتے ہیں، کچھ بھی کرنے کا دل نہیں کرتا۔چھوٹے موٹے کام بھی تھکا دینے والے اور بورنگ لگتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جسم میں جان ہی نہ ہو ایک بوجھ محسوس ہوتا رہتا ہے۔برطانیہ کی اینا كیتھرينا شوفنر کو ہی لیجیے وہ ہر وقت تھکاوٹ محسوس کرتی تھیں یوں لگتا تھا کہ جیسے جسم میں طاقت ہی نہ ہو۔اینا گھریلو کام میں ہی اتنا تھک جاتی تھیں کہ ان کے لیے دفتر کا کام نمٹانا بہت بھاری پڑتا تھا۔مگر اینا کہتی ہیں کہ تھکاوٹ ختم کرنے کے لیے وہ جب بھی بیٹھتی تھیں تو اپنا فون چیک کرنا نہیں بھولتی تھیں۔جیسا کہ ای میل پر ان کی تھکاوٹ مٹانے کا کوئی نسخہ آنے والا ہو۔ اینا کہتی ہیں کہ انہیں بیزاری محسوس ہوتی تھی۔آج دنیا میں بےشمار لوگوں کی حالت اینا جیسی ہے

ان میں سے کئی تو مشہور شخصتات ہیں۔ جیسا کہ گلوکارہ ماریا كیرے یا پھر پوپ بینڈکٹ سولہویں۔ان لوگوں کو بھی تھکاوٹ کی یہ بیماری ہوئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ بیماری اسی دور کی پیدائش ہے۔کیا یہ واقعی سچ ہے؟ یا سستی کسی کو یہ دور عارضی ہے؟ یا پھر یہ انسان کی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔اینا شوفنر برطانیہ کی کینٹ یونیورسٹی میں میڈیکل کی مؤرخ ہیں اسی لیے انہوں نے خود ہی اس تھکاوٹ کی وجہ تلاش کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کا نتیجہ ایک کتاب کی شکل میں سامنے آیا.جس کا نام ہے(Exhaustion: A History). یہ کتاب انتہائی دلچسپ ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ انسان کی تھکاوٹ، جسم میں طاقت کی کمی اور دماغی تھکاوٹ کو ڈاکٹروں یا ماہرین نفسیات نے کس طرح سمجھنے کی کوشش کی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کے دور میں تھکاوٹ ایک سنگین مسئلہ ہے اور یہ تھکاوٹ آپکی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتی ہے۔جرمنی کے ڈاکٹروں کے ایک سروے کے مطابق تقریباً 50 فیصد ڈاکٹر تھکان محسوس کرتے ہیں۔ان میں سے بہت سے لوگ ہر وقت بیزار محسوس کرتے ہیں۔کام میں ان کا ذرا بھی دل نہیں لگتا اور کام کا خیال آتے ہی جسم کی طاقت ختم ہوتی محسوس ہوتی ہے۔مگر ایک سروے کے مطابق عورتیں اور مرد تھکاوٹ سے الگ الگ طرح سے نمٹنے ہیں۔مرد اس وجہ سے زیادہ طویل چھٹیاں لیتے ہیں

ان مقابلے خواتین، تھکاوٹ کی حالت سے نمٹنے کے لیے کم چھٹیاں لیتی ہیں۔ایک جرمن اخبار کے مطابق امیر لوگوں نے ڈپریشن کو نیا نام دے دیا ہے۔ ’جب وہ کام نہیں کرنا چاہتے، تو اسے ’برن آؤٹ‘ کا نام دے دیتے ہیں کیونکہ کامیاب لوگ خود کو ڈپریشن کا شکار نہیں بتانا چاہتے۔وہیں جو لوگ ناکام ہوتے ہیں، انھیں ڈپریشن کا شکار بتا دیا جاتا ہے۔‘تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن اور تھکاوٹ، دو بالکل مختلف چیزیں ہیں. ڈپریشن میں لوگ اعتماد گنوا دیتے ہیں یا پھر وہ خود ہی سے نفرت کرنے لگتے ہیں وہیں تھکاوٹ کے شکار لوگوں کے ساتھ ایسا نہیں ہے خود کے بارے میں ان کی رائے وہی رہتی ہے۔اینا کہتی ہیں کہ تھکاوٹ کے دوران غصہ، بنیادی طور پر ان کے کام کے ماحول کے خلاف بغاوت ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس دور کا ماحول ایسا ہے، جس میں انسان کا دماغ کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔لوگوں پر زیادہ سے زیادہ کام کرنے اور نئے نئے اہدف حاصل کرنے کا دباؤ رہتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو یہ بھی ثابت کرنا ہوتا ہے کہ انہیں جو کام دیا گیا ہے، وہ اس کے قابل ہیں۔یعنی آپ روز ایک جدوجہد میں جیتے ہیں

اور روز آپ پر کام کا، کچھ بہتر کرنے کا دباؤ ہوتا ہے اس سےذہنی تناؤ اور تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔بہت سے لوگوں کے لیے تو کام کے علاوہ گھر کے حالات کا دباؤ بھی ہوتا ہے دماغ میں ہر وقت کوئی نہ کوئی چیلنج سوار رہتا ہے۔زندگی کا پہیہ ہے کہ رکتا ہی نہیں، اسے آرام کا موقع نہیں ملتا اور آرام نہ ملنے سے ہمارا دماغ تازگی محسوس نہیں کرتا تو ہمارے دماغ کی بتی نہیں جلتی اور ہمارے جسم کو چلانے والی بیٹری کبھی مکمل طور پر ریچارج نہیں ہو پاتی۔یہ واضح ہے کہ صدیوں سے لوگ کام سے تھکاوٹ، ماحول سے بوریت اور بیزار لیکن تھکاوٹ ہمارے رہن سہن کا اٹوٹ حصہ رہی ہے۔سچ تو یہ ہے کہ ہم آج بھی پوری طرح نہیں سمجھ پائے

کہ تھکاوٹ، جسم میں طاقت کی کمی کی اصل وجہ کیا ہے اور کئی بار یہ اچانک سے ختم کیسے ہو جاتی ہے۔ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کی علامات جسم میں پہلے ظاہر ہوتی ہیں یا پھر دماغ اس کی گواہی پہلے دیتا ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ تھکاوٹ معاشرے کے ماحول کی وجہ سے ہوتی ہے یا پھر ہمارے خود کے برتاؤ کا نتیجہ ہے۔شاید تھکاوٹ کا سچ ان سب کو ملا کر بنتا ہے کیونکہ ہمارے احساسات اور ہمارا اعتماد ہم پرگہرا اثر ڈالتے ہیں۔ہمیں معلوم ہے کہ جذباتی تکلیف سے ہمیں جلن اور درد محسوس ہوتا ہے کئی بار تو اس کی وجہ سے دورے بھی پڑنے لگتے ہیں۔ تھکاوٹ کی وجہ سے آنکھوں کے آگے اندھیرا سا چھا جاتا ہے.اینا کے مطابق آج زیادہ لوگوں کو تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے اس کا مطلب صاف ہے کہ یہ ہماری زندگی کا اہم مسئلہ ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!