”مٹھی بھر چنے اور میتھی دانےایک عام سی چیز اورملالیں“

”مٹھی بھر چنے اور میتھی دانےایک عام سی چیز اورملالیں“

اآج ہم بات کرینگے میتھی کے بارے میں آپۖ نے فرمایا کے میتھی سے شفا حاصل ہوتی ہے ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ آپۖ نے فرمایا کہ اگر میری امتی میتھی کے فوائد کو سمجھ لیں تو وہ اسے سونے کے قیمت میں بھی خریدینگے تو ان دو احادیث کی روشنی میں میتھی کی اہمیت ہمیں واضح ہو جانی چاہیے۔ الحمدُاللہ پاکستان میں میتھی بہت زیادہ ہے اور بہت سستی ملتی ہے اور یہ دو طرح کی ہوتی ہے لیکن جو کارگر ہے وہ چھوٹی میتھی ہے۔ میتھی کے بیج ہے وہ بہت کارگر ہے وہ لوگ جو نزلہ زکام اور بخار میں مبتلا ہیں وہ میتھی کے بیج لیں ایک ٹی سپون اور اس کو پانی میں ڈال کر بوائل کریں اور چینی یا شہد جو چیز میسر ہے وہ ڈال کر اس کو پیے تو طبیعت بہتر ہو جائیگی۔ میتھی دانہ اور السی ان دونوں کو ہم وزن لے کر اس کا ایک چمچ صبح اور ایک چمچ شام ہلکے گرم پانی سے اس کو استعمال کریں اس سے آپکا گھٹنے کا درد، جوڑوں کا درد، سر کا درد انشااللہ ختم ہو جائیگا۔

 

میتھی دانے کو تیل کے اندر ڈال کر کچھ دیر دھوپ میں رکھیں  تو بعد میں اس تیل کو سر پر لگائے اس سے آپ کے گرتے ہوئے بال گنج اور تمام چیزیں میتھی کے تیل سے یہ حل ہو سکتی ہیں۔ اگر آپکے چہرے کے اندر کوئی نشانات ہیں تو میتھی کا تیل بازار میں بھی ملتا ہے اس تیل میں تھوڑی سی کلونجی ڈال کر اس کو گرم کر کے اس کو پیس لیں اور جیسے بھی آپکے داغ دھبے آپکے چہرے پر ہیں اس سے ختم ہو جائینگے۔میتھی میں وائٹامن اے بھی ہے وائٹامن بی بھی ہے اور وائٹامن سی بھی ہے۔ میتھی کی بھاجی گردوں کی سوزش کے لیے بہت اچھی ہے اور اس کا پانی جگر کے لیے بہت اچھا ہے اگر بچوں کے سینے میں ٹھنڈ ہے یا ریشہ ہے تو میتھی کی بھاجی کا پیسٹ بنا لیں اور اس میں جائفل اور لونگ ملا لیں ہم وزن مقدار میں اور اس کو کپڑے میں ڈال کر اسی طرح اس کا لیپ کر دیں بچے کی چھاتی پر، تو جتنا بھی بلغم ہوگا سارا باہر نکل آئیگا۔ باہر کے ممالک میں میتھی کی چائے بہت استعمال کی جاتی ہے  اور اس کی چائے یعنی

 

سردی کے موسم کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس موسم میں رنگ رنگ کی سبزیاں بازار میں نظر آتی ہیں اور ان کو دیکھ کر سبزی نہ کھانے والے لوگ بھی ان کو کھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں- وہ ہرے پتوں والے ساگ ہوں یا رنگیں گاجریں ، سرخ چقندر ہوں یا گول گول شلجم یہ سب اپنی بہار دکھا رہے ہوتے ہیں اور ان ہی میں ایک اور سبزی جو کہ اسی موسم میں نظر آتی ہے وہ ہرے چنے ہیں جو کہ پھلی کے اندر ہوتے ہیں اور ان کو مٹر کی طرح نکال کر استعمال کیا جاتا ہے- ان کو چھولیا یا ہرے چنے بھی کہا جاتا ہے اس کو لوگ سبزی کے طور پر بھی پکاتے ہیں اس کے علاوہ اس کو گوشت میں بھی پکا کر کھایا جا سکتا ہے- ویسے تو اس کو کچا بھی کھا سکتے ہیں مگر اس کو کچھ لوگ ابال کر مصالحہ دال کر بھی کھاتے ہیں سردی کے موسم میں بار بار لگنے والی بھوک کو مٹانے کے لیے یہ ایک بہترین اسنیکس ثابت ہو سکتا ہے جو بہت سارے فوائد کا بھی حامل ہوتا ہے-یہ چنے ان افراد کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں جو ڈائٹنگ کر رہے ہوتے ہیں اور بار بار لگنے والی بھوک سے پریشان بھی ہوتے ہیں-

 

ان چنوں کا استعمال ایک جانب تو ان کے وزن کو بڑھنے سے روکتا ہے اور دوسری جانب پیٹ بھرنے کا بھی بہترین ذریعہ ہوتے ہیں- اس کے علاوہ کئی طبی فوائد کے حامل ہوتے ہیں-ہرے رنگ کی سبزی ہونے کے سبب ان میں پروٹین کا خزانہ پوشیدہ ہوتا ہے اور ان کا استعمال جسم کے میٹابولزم کے نظام کو تیز کرتا ہے اور پروٹین سے بھرپور ہونے کے سبب ان کو کھانے سے جلد بھوک نہیں لگتی ہے- اس لیے یہ وزن کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں کیوں کہ ان کو کھانے کے بعد بھوک کم لگتی ہے اور یہ دیر سے ہضم ہونے والی غذا ہے-ہرے چنے وٹامن اے اور سی سے بھر پور ہوتے ہیں جو کہ جسم میں بطور اینٹی آکسیڈنٹ عمل کرتے ہیں اور زہریلے مادوں کو جسم سے باہر خارج کرنے میں اہم کردار ادا کر کے سردی کے موسم میں انسان کی قوت مدافعت کو بڑھا کر بیماریوں سے لڑنے کی طاقت فراہم کرتا ہے-قہوہ اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ پائلز کے امراض میتھی کی چائے دن میں دو سے چار دفعہ پیے ان کے لیے یہ بہت فائدہ مند ہے

 

 

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

error: Content is protected !!