”صرف ایک گولی سے علاج کینسر دل شوگر اور معد ے کا فوری علاج“

”صرف ایک گولی سے علاج کینسر دل شوگر اور معد ے کا فوری علاج“

طویل عرصے سے کیمیائی مادے کرکیومن میں علاج کی خصوصیات کا ذکر کیا جاتا رہا ہے اور اسے پہلے ہی جوڑوں کے درد اور حافظے کی بیماری کے علاج کے لیے ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔لیکن اب کورک کینسر ریسرچ سنٹر کی ایک ٹیم کے تجربات میں یہ بات سامنےآئی ہے کہ یہ خوراک کی نالی میں پائے جانے والے کینسر خلیے کو تباہ کر سکتا ہےکینسر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ برٹش جرنل آف کینسر میں شائع ہونے والے نئی تحقیق کے نتائج علاج کے نئے طریقے تلاش کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ڈاکٹر شیرون میکینا اور ان کی ٹیم کو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ کرکیومن چوبیس گھنٹے کے اندر کینسر خلیوں کو ختم کرنا شروع کر دیتا ہے ۔

 تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ جب کرکیومن نے اپنے اثرات دکھانے شروع کیے تو خلیوں نے خود کو ہضم کرنا شروع کر دیا۔ڈاکٹر میکینا کا کہنا ہے کہ سائنسدانوں کو طویل عرصے سے معلوم تھا کہ ہلدی میں پائے جانے والے زرد ذرات میں کینسر زدہ عیب دار خلیوں کا علاج کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ’ہمیں شبہ ہے کہ اس میں شفا کی صلاحیت ہو سکتی ہے۔‘کینسر ریسرچ یو کے میں کینسر انفارمیشن کی ڈائریکٹر ڈاکٹر لیزلی واکر کے مطابق یہ ایک دلچسپ تحقیق ہے جس سے ہلدی میں قدرتی طور پر پائے جانے والے کیمیائی اجزاء سے خوراک کی نالی کے کینسر کے علاج کی راہیں کھل سکتی ہیں۔برطانیہ میں ہر سال سات ہزار آٹھ سو معدے کی نالی کے نئے مریض سامنے آتے ہیں اور ملک میں کینسر سے ہلاک ہونے والے مریضوں میں سے پانچ فیصد اس بیماری کا شکار ہوتے ہیں۔

عام طور پر معدے میں جلن اور تیزابیت کی صورت میں چھاتی کے درمیان جلن محسوس ہوتی ہے،جسے ہارٹ برن بھی کہتے ہیں۔ اس کی وجہ معدے کی تیزابیت کا خوراک کی نالی میں داخل ہونا ہے اور اس جلن کے ساتھ منہ کا ذائقہ خراب جاتا ہے۔ تیزابیت کی مزید نشانیوں میں کھانسی اور ہچکی کا لگنا، آواز کا کھردرا ہونا، مُنہ سے بدبو کا آنا اور پیٹ کا پھولا ہُوا محسوس ہونا وغیرہ شامل ہیں۔معدے میں تیزابیت بڑھنے کی وجہ سے زخم ہو جاتا ہے، خون کا اخراج ہونے لگتا ہے، جو کہ السر کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور یہ مہلک بھی ہو سکتا ہے۔ السر معدے کی عام بیماری ہے۔ لیکن اگر السر ٹھیک نہ ہو اور تکلیف مسلسل رہے تو لمحہ فکریہ کیونکہ بات بڑھ بھی سکتی ہے۔

 

کیا آپ معدے میں بدہضمی، جلن ، تیزابیت، السر اور قبض جیسی تکالیف میں مبتلا تو نہیں؟اس اہم موضوع پر اسلام آباد میں موجود ماہر امراض جنرل اور لیپروسکوپک سرجن ڈاکٹر سرتاج علی خان سے مفید معلومات لی ہیں، جو آپ کے ساتھ شیئر کر رہی ہوں۔معدے کے امراض کی نوعیت اور علاماتڈاکٹر سرتاج نے معدے کےامراض / تکالیف کے بارے میں بتایا کہ یہ دو طرح کی ہوتی ہیں ایک عام تکلیف جسے بینائن (Benign) کہا جاتا ہے دوسرا مہلک (Malignant)۔Benign عام بیماری ہوتی ہے جبکہ Malignant کینسر کو کہتے ہیں۔ Benign میں گیسٹرائٹس، گیسٹرک السر، پیپٹک السر ہو جاتا ہے۔ اس دونوں حالات کی علامات ایک جیسی ہوتی ہیں، جیسا کہ بھوک کا کم ہونا، معدے میں جلن ہونا، معدے میں درد ہونا یا منہ میں کڑوا پانی آنا یا بدہضمی ہو جانا، کھانا کھا کر پیٹ پھولنا، سر کا درد، بار بار منہ کا پکنا، گھبراہٹ ہونا، دل کی دھڑکن کا تیز ہونا، سینے میں درد ہونا، ٹھنڈے پسینے آنا وہ بھی اکثر رات کو کیونکہ لوگ کھانا کھا کر سو جاتے ہیں۔ن کے علاوہ معدے کے کینسر میں کچھ مزید علامات بھی شامل ہو جاتی ہیں، جیسا کہ وزن کا کم ہونا، بھوک کا ختم ہونا، بار بار الٹی کا آنا اور الٹی میں پرانی خوراک، جو دو تین دن پہلے کھائی ہو وہ بھی موجود ہو یا معدے میں کو گلٹی محسوس ہونا۔

 

معدے اور نفسیات کا کیا تعلق ہے؟ڈاکٹر سرتاج سے معدے اور نفسیات کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ڈپریشن معدے پر بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ عموما ہم کہتے ہیں کہ ہمارے دو اعصابی نظام ہیں، ایک تو دماغ اور دوسرا ہم معدے کو کہتے ہیں کیونک معدے نے پورا نظام چلانا ہوتا ہے۔ جب معدہ اپ سیٹ ہوگا تو دماغ پر بھی اثر ہو گا۔ اسی طرح آپ ڈپریشن لیں گے تو آپ کا معدہ بھی خراب ہو گا، جس کے بعد سٹریس السر ہوتا ہے۔معدے کا کینسر آخری مرحلے پر تشخیص ہونی کی وجہانہوں نے کہا کہ کینسر کی علامات ویسی ہی ہوتی ہیں، جیسی کہ معدے کی عام تکالیف ہوتی ہیں۔ اس لئے لوگ اسے سنجیدہ نہیں لیتے۔ کینسر کی تشخیص انڈواسکوپی اور بائیوپسی سے ہوتی ہے۔ ابتدائی اسٹیج پر کینسر تشخیص کرنا ہے تو اس کے لئے انڈواسکوپی کروانی ہوتی ہے لیکن ایک تو انڈواسکوپی مہنگی ہوتی ہے دوسرا اس میں تھوڑی تکلیف ہوتی ہے تو لوگ ہچکچاتے ہیں اور تکلیف کی علامات کو نارمل ہی تصور کرتے ہیں۔ اس لئے معدے کا کینسر عموما مرض بڑھ جانے کے بعد آخری مرحلے میں معلوم ہوتا ہے۔

 

معدے میں کینسر ایک طرح کی گلٹی یا رسولی ہوتی ہے۔ جب تک وہ معدے کو بلاک نہیں کر دے پتہ نہیں چلتا۔ بلاک کی صورت میں کھانا نہیں کھایا جاتا یا جو کھا لیں وہ الٹی ہو جاتا ہے۔ وزن تیزی سے کم ہونے لگتا ہے تب تک کینسر تیسرے یا چوتھے مرحلے میں پہنچ چکا ہوتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے بتایا کہ معدے کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کو اسٹو ل اینٹیجن ٹیسٹ لکھ کر دیتے ہیں، جو لوگ کروانے سے ہچکچاتے ہیں۔ اگر یہ ٹیسٹ بروقت کروا لیا جائے تو السر اور کینسر کی تشخیص جلد ہو جاتی ہے، جس سے علاج بروقت ہو جاتا ہے جو کہ دس پندرہ دن کا ہوتا ہے اور معاملہ پیچیدہ ہونے سے بچ جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.

error: Content is protected !!